کالم و مضامین

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرائن کے صدر زولنسکی کی ایک تاریخی تلخ ملاقات

صدرٹرمپ اور زیلنسکی کی ملاقات میں پیدا ہونے والا تنازع بین الاقوامی سطح پر موضوع بحث بن گیا ہے

( خصوصی مضمون : سلمان ظفر، نیویارک )

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے درمیان فروری 2025 میں وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنی، جو تلخ کلامی اور تنازع کا شکار ہو گئی۔
فروری 2025 کے اوائل میں، دونوں رہنماؤں نے فون پر بات چیت کی تھی جس میں امن کے مواقع اور سیکیورٹی و اقتصادی تعاون پر تبادلہ خیال ہوا تھا۔ اس کے بعد، 7 فروری کو، صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ ممکنہ طور پر زیلنسکی سے ملاقات کریں گے تاکہ روس کے ساتھ جاری جنگ پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
28 فروری 2025 کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران، دونوں رہنماؤں کے درمیان روس کے ساتھ جاری جنگ اور امریکی امداد کے حوالے سے شدید اختلافات سامنے آئے۔ صدر ٹرمپ نے زیلنسکی پر الزام عائد کیا کہ وہ امریکی امداد کا مناسب شکریہ ادا نہیں کر رہے اور آئندہ امداد کے لیے امریکی شرائط کو تسلیم کرنا ہوگا۔ اس پر زیلنسکی نے جواب دیا کہ یوکرین اپنی خودمختاری اور آزادی کے لیے لڑ رہا ہے اور انہیں مزید امداد کی ضرورت ہے۔ یہ تبادلہ خیال تلخ کلامی میں بدل گیا، اور ملاقات متنازع صورت اختیار کر گئی۔
ملاقات کے بعد، نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے اس ملاقات کو “بدقسمتی” قرار دیا اور کہا کہ اس سے اتحادیوں کے درمیان اتحاد پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے زیلنسکی سے مطالبہ کیا کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ ہونے والے تنازع پر معافی مانگیں اور کہا کہ زیلنسکی کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ یہ ملاقات کشیدگی کے ساتھ ختم ہوگی۔
لاقات کے بعد، زیلنسکی برطانیہ کے دورے پر گئے جہاں برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے ان کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔ اس دوران، برطانیہ نے یوکرین کے لیے اضافی مالی امداد کا اعلان کیا، جو زیلنسکی کے لیے حوصلہ افزا تھا۔
ٹرمپ اور زیلنسکی کی ملاقات میں پیدا ہونے والا تنازع بین الاقوامی سطح پر موضوع بحث بن گیا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی رہنماؤں کے درمیان اختلافات اور ان کے اثرات کتنے گہرے ہو سکتے ہیں، خاص طور پر جب ممالک کے درمیان اتحاد اور تعاون کی ضرورت ہو

Related Articles

Back to top button