چیمپئین ٹرافی میں پاکستان کی مایوس کن کارکردگی
پاکستان کے شائقین کرکٹ جہاں اس بات پر خوش تھے کہ 29سال کے بعد عالمی کرکٹ پاکستان میں آئی ہے ، وہاں انہیں اپنی ٹیم کی اپنے ہوم گراؤنڈز میں کارکردگی سے مایوسی ہوئی


تحریر: سید انور واسطی، نیویارک
پاکستان کرکٹ ٹیم نے 2025 چیمپئین ٹرافی میں مایوس کن کارکردگی دکھائی ہے۔ ٹیم اپنے ابتدائی میچ ہارگئی۔ کھلاڑی بے اعتماد نظر آے، اور کارکردگی میں کسی بھی شعبے میں مضبوطی نہیں دکھائی دی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان جو کہ اس چیمپئین ٹرافی کو ہوسٹ ملک ہے، وہ پہلے ہی مرحلے میں ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا ۔پاکستان کے شائقین کرکٹ جہاں اس بات پر خوش تھے کہ 29سال کے بعد عالمی کرکٹ پاکستان میں آئی ہے ، وہاں انہیں اپنی ٹیم کی اپنے ہوم گراو¿نڈز میں کارکردگی سے مایوسی ہوئی ۔
پہلا میچ: پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ
پاکستان نے اپنا پہلا میچ نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلا، لیکن ٹیم اچھی کارکردگی نہ دکھا سکی۔ بیٹنگ لائین دباو¿ میں بکھر گئی، اور باوؤلرز نیوزی لینڈ کے بلے بازوں کو روکنے میں ناکام رہے۔ پاکستان یہ میچ یکطرفہ انداز میں ہار گیا۔
دوسرا میچ: پاکستان بمقابلہ بھارت
پاکستان نے بھارت کے خلاف ایک اہم میچ کھیلا، لیکن ایک بار پھر ٹیم مکمل طور پر ناکام رہی۔ بلے باز رنز بنانے میں ناکام رہے، اور بولرز ہدف کا دفاع نہیں کر سکے۔ ٹیم ذہنی طور پر کمزور نظر آئی اور ہر شعبے میں غلطیاں کرتی رہی۔
مجموعی کارکردگی
پاکستان کی کارکردگی ان دونوں میچوں میں انتہائی کمزور رہی۔ کھلاڑیوں میں اعتماد، طاقت، اور توجہ کی کمی واضح نظر آئی۔ بیٹنگ ناقص رہی، بولنگ بے اثر ثابت ہوئی، اور فیلڈنگ بھی معیار کے مطابق نہیں تھی۔ ٹیم دباؤ برداشت کرنے میں ناکام رہی۔
پاکستان کی چیمپئنز ٹرافی 2025 میں مایوس کن کارکردگی کے بعد آئی سی سی کی تازہ ترین رینکنگ میں قومی کھلاڑیوں کو تنزلی کا سامنا کرنا پڑا۔کئی اہم کھلاڑیوں کی درجہ بندی میں نمایاں تنزلی دیکھنے میں آئی ہے۔
ٹیم کو اپنی حکمت عملی، ذہنی مضبوطی، اور کھیل میں بہتری لانے کی اشد ضرورت ہے۔ یہ ضرور سوچنا چاہئیے کہ آخر کہاں خرابی ہے ، باتیں تو بہت ہوتی ہیں لیکن جہاں پرفارم کرنا ہوتا ہے ، وہاں مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کیوں کیا جاتا ہے۔